تاریخ — تھوہا خالصہ
تھوہا خالصہ تحصیل کہوٹہ، ضلع راولپنڈی کا ایک تاریخی گاؤں ہے۔ وقت کے ساتھ اس گاؤں نے اہم سماجی اور سیاسی تبدیلیاں دیکھیں۔ اسی لیے اس کا ماضی علاقائی تاریخ کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔
ابتدائی آبادی اور سماجی زندگی
1947 کی تقسیم سے پہلے تھوہا خالصہ زیادہ تر سکھ آبادی پر مشتمل تھا۔ تاہم مسلمان، ہندو اور براہمن بھی یہاں اکٹھے رہتے تھے۔ اس طرح گاؤں میں ایک مشترکہ سماجی ڈھانچہ قائم ہوا۔ اس دور میں کئی سکھ خاندان خوشحال تھے اور بڑی تعداد سنار اور تاجر کے طور پر کام کرتی تھی۔
سردار سجان سنگھ اس زمانے کی ایک معروف شخصیت تھے۔ ان کے پاس تھوہا خالصہ سے راولپنڈی شہر تک چلنے والی واحد بس سروس تھی۔ اس وجہ سے گاؤں اور شہر کے درمیان آمدورفت آسان ہو گئی۔
مذہبی اور ثقافتی موجودگی
گاؤں اور اس کے اطراف سکھ مذہبی مقامات موجود تھے۔ مثال کے طور پر پانیالی میں ایک گردوارہ تھا جسے مقامی طور پر دکھ پجنی کہا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ چار سے پانچ عبادت گاہیں (مقامی زبان میں ترمسال) بھی تھیں۔ معروف سکھ مبلغ سنت اتر سنگھ نے بیسویں صدی کے آغاز میں یہاں مذہبی تعلیمات کے فروغ کے لیے دورہ کیا۔ ایک دورے کے دوران انہوں نے طویل جدائی کے بعد اپنی والدہ سے ملاقات کی، جو مقامی روایت کے طور پر یاد کی جاتی ہے۔
اسی طرح سکھ رہنما ماسٹر تارا سنگھ کے بھی اس علاقے سے روابط رہے۔ بعد ازاں وہ تقسیم سے پہلے کے دور میں ایک بااثر سیاسی رہنما بنے۔ اس طرح تھوہا خالصہ سکھ برادری کے لیے مذہبی اور سماجی اہمیت رکھتا تھا۔
1947 کے واقعات
مارچ 1947 میں ضلع راولپنڈی کے کئی علاقوں کی طرح تھوہا خالصہ بھی فرقہ وارانہ تشدد سے متاثر ہوا۔ 8 مارچ 1947 کو سکھ آبادی نے گاؤں چھوڑ دیا۔ اسی دن مقامی گردوارہ تباہ ہوا اور متعدد افراد جان سے گئے۔ بعد میں مسلمان خاندان یہاں آباد ہوئے اور آبادی کی مذہبی و سماجی ساخت مستقل طور پر بدل گئی۔ تاہم گاؤں کا نام بدستور تھوہا خالصہ ہی رہا۔
تاریخی بیانات کے مطابق مارچ 1947 کے دوران شدید جھڑپیں ہوئیں۔ مقامی افراد نے کئی دن تک مزاحمت کی، مگر جانی نقصان بھی ہوا۔ بعد میں بچ جانے والوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا اور کمیونٹی مختلف علاقوں میں بکھر گئی۔
ہجرت اور نئی آبادکاری
تقسیم کے بعد جموں اور گردونواح سے آنے والے بہت سے مسلمان خاندان تھوہا خالصہ میں آ کر آباد ہوئے۔ موجودہ آبادی کی بڑی تعداد کی جڑیں 1947 کے بعد کی ہجرت سے ملتی ہیں۔ ان خاندانوں نے گھروں اور سماجی ڈھانچے کو دوبارہ تعمیر کیا اور گاؤں بتدریج اپنی موجودہ شکل میں ڈھل گیا۔
موجودہ تاریخی اہمیت
آج تھوہا خالصہ اپنے تہہ در تہہ ماضی، ہجرت کی تاریخ اور ثقافتی تسلسل کے باعث یاد رکھا جاتا ہے۔ یہ گاؤں نسلوں پر محیط ثابت قدمی اور تبدیلی کی علامت سمجھا جاتا ہے اور پوٹوہار پلیٹو کے اہم تاریخی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔
COMMENTS